Cart 0

Idrak Zawale Ummat vol. I

گذشتہ کئی صدیوں سے ہمارے مفکرین ہمارے زوال پر کلام کرتے رہے ہیں جس سے یہ احساس تو عام ہوتارہا کہ کہیں کوئی چیز کھوئی گئی ہے لیکن وہ گڑ بڑی کہاں واقع ہے اس کی نشاندہی کی سنجیدہ کوششیں بہت کم نظر آتی ہیں۔
یہ کتاب بنیادی طور پر اسیصورتِ حال کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے کہ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں کس طرح رفتہ رفتہ وحی کے بجائے متعلقاتِ وحی کو اس قدر اہمیت ملتی گئی کہ مسلم حنیف ہونا بڑی حد تک ایک تہذیبی شناخت بن کر رہ گیا۔ وہ کتاب جو (ہدی للمتقین) کے دعوے سے شروع ہوتی ہے اس پرفقہاء کی تعبیرات نے‘ ایسا محسوس ہوا ‘دوسری ثقافت کے متقین کے لئے دروازہ بند کردیاہو۔ وحئ ربانی کی خالص فقہی تعبیر اور پھر اس تعبیر کو مغز دین قرار دینے کے نتیجے میں بہت جلد یہ آفاقی امت جسے سیادت عالم کے منصب پر فائز کیا گیا ہے، فرقۂ محمدی کی نفسیات میں محصور ہوگئی۔ مسائل عالم سے اپنا رخ موڑ کر اور عام انسانیت کی فلاح سے دست بردار ہو کر ہماری تمام تر توجہ ایک مخصوص ثقافتی شناخت والی امت مسلمہ پر مرکوز ہوتی گئی۔ حتی کہ ہمارے فقہاء نے دنیا کو اسلامی اور غیر اسلامی سرزمین میں بانٹ ڈالا اور ایسا محسوس ہواکہ مسلم آبادی کے علاقوں کے علاوہ دنیا کے دوسرے خطوں کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ سیادت عالم سے ہماری کنارہ کشی دراصل وحی کے سلسلے میں گمراہ کن تعبیرات سے پیدا ہوئی تھی۔ صدیاں گزریں وحی پر پڑنے والے حجابات میں اضافہ ہوتا رہا۔

350.00

Product ID: 18958 SKU: 81-87856-14-9 Category:

گذشتہ کئی صدیوں سے ہمارے مفکرین ہمارے زوال پر کلام کرتے رہے ہیں جس سے یہ احساس تو عام ہوتارہا کہ کہیں کوئی چیز کھوئی گئی ہے لیکن وہ گڑ بڑی کہاں واقع ہے اس کی نشاندہی کی سنجیدہ کوششیں بہت کم نظر آتی ہیں۔

یہ کتاب بنیادی طور پر اسیصورتِ حال کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے کہ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں کس طرح رفتہ رفتہ وحی کے بجائے متعلقاتِ وحی کو اس قدر اہمیت ملتی گئی کہ مسلم حنیف ہونا بڑی حد تک ایک تہذیبی شناخت بن کر رہ گیا۔ وہ کتاب جو (ہدی للمتقین) کے دعوے سے شروع ہوتی ہے اس پرفقہاء کی تعبیرات نے‘ ایسا محسوس ہوا ‘دوسری ثقافت کے متقین کے لئے دروازہ بند کردیاہو۔ وحئ ربانی کی خالص فقہی تعبیر اور پھر اس تعبیر کو مغز دین قرار دینے کے نتیجے میں بہت جلد یہ آفاقی امت جسے سیادت عالم کے منصب پر فائز کیا گیا ہے، فرقۂ محمدی کی نفسیات میں محصور ہوگئی۔ مسائل عالم سے اپنا رخ موڑ کر اور عام انسانیت کی فلاح سے دست بردار ہو کر ہماری تمام تر توجہ ایک مخصوص ثقافتی شناخت والی امت مسلمہ پر مرکوز ہوتی گئی۔ حتی کہ ہمارے فقہاء نے دنیا کو اسلامی اور غیر اسلامی سرزمین میں بانٹ ڈالا اور ایسا محسوس ہواکہ مسلم آبادی کے علاقوں کے علاوہ دنیا کے دوسرے خطوں کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ سیادت عالم سے ہماری کنارہ کشی دراصل وحی کے سلسلے میں گمراہ کن تعبیرات سے پیدا ہوئی تھی۔ صدیاں گزریں وحی پر پڑنے والے حجابات میں اضافہ ہوتا رہا۔

ہم جب تک پچھلی غلطیوں کو درست نہیں کرتے ہمارا اگلا ہر قدم مزید التباسات کو جنم دے گا۔ کوئی گیارہ سو عرصے پر محیط ہمارا فکری سفراس خیال کی توثیق کرتا رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان التباسات کی پیدا کردہ ہولناکیوں کا فی الفور ادراک کریں کہ ایساکرنا ہمیں اس گرداب شر سے نکلنے کے لئے مضطرب کردے گا اور پھر جیسا کہ اللہ کا وعدہ ہے(والذین جاہدوا فینا لیہدینہم سبلنا) ہم اپنے لئے امکانات کی نئی وادیاں وا پائیں گے۔

Available Format

Paperback

Name of Author

Rashid Shaz

Language

Urdu

ISBN code

978-81-87856-23-8

Reviews

Be the first to review “Idrak Zawale Ummat vol. I”